مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ دنیا بھر میں جاری عوامی احتجاج کے حوالے سے حکمرانوں کی سازش یہ ہے کہ بدعنوان اور جنگ پسند حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج کا رخ موڑ کر اسے عوام کے درمیان باہمی تصادم میں تبدیل کر دیا جائے اور پھر خود عوام ہی کو ملامت کا نشانہ بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین کیس کے انکشافات، غزہ میں ہونے والے جرائم، ایران کے خلاف جنگ اور فوجی بدعنوانی پر عوامی ردعمل کا اصل پیغام یہ ہے کہ یہ تمام مسائل دنیا کی طاقت کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں موجود ایک ہی دھڑے کی پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہیں۔
قالیباف نے زور دیا کہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے مصنوعی تنازعات کھڑے کیے جا رہے ہیں، مثلاً ’’تارکینِ وطن بمقابلہ مقامی آبادی‘‘ کا بیانیہ۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو موضوع بدلنے کی ان کوششوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور حکمرانوں کو جواب دہی اور احتساب سے بچنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ